Saturday, 30 December 2017

محسن نقوی


قریہ جاں میں اُبھرنے لگا  
پھر گریہ شب پھر ملا
 اِذن تکلم پئے 
یک جُنبش لب پھر بڑھی
 تشنہ لبی حِدت خواہش کے سبب پھر دل و دیدہ کو ہے چشمئہ کوثر کی طلب آگہی
 غازہ رخسار سحر مانگتی ہے زندگی وقت سے جِبریل کا پَر مانگتی ہے آنکھ میں پھر سے دَمکنے لگا الماس و گُہر لَوحِ افلاک پہ بُجھنے لگے تاروں کے شرر مَوج دَر مَوج کُھلے پھر سے حوادث کے بھنور خامئہ فِکر نے آغاز کیا عزم سفر دَستِ احساس سے ظُلمت کی عِناں چُھوٹ گئی کہکشاں بن کے دھنک مِثل کماں ٹوٹ گئی پھر سرکنے لگی تاریخ کے چہرے سے نقاب کُھل گئی ذہن میں دہکے ہوئے ماضی کی کتاب حَرف دَر حَرف بہلنے لگے تعبیر سے خواب گردش وقت نے ترتیب دیا یوم حساب پرچم عدل بصد رنگ انا کُھلنے لگا ایک اک اشک سر نوک مژہ تُلنے لگا ظُلم کی دھوپ نے سنولا دئیے جذبوں کے گُلاب حبس کی زد میں پگھلنے لگے بخشش کے سَحاب چھا گیا عرصہ ہستی پہ شَقاوت کا عذاب پڑ گئی ماند مہ و مہر خیالات کی آب وقت جب خیر کی تعظیم کا دَر بھول گیا خود تراشیدہ صلیبوں پہ بشر جُھول گیا شہر در شہر مچی قہر سلاطین کی دھوم صحن گلشن پہ مسلط ہوئی خود باد سمُوم ظُلمت جہل کی ہیبت سے پڑے زرد عَلُوم لشکر جَبر نے پامال کیا حُسن نَجُوم جَبر کا شُور بڑھا جب حَدِ رُسوائی سے کُھل گئی گرہ جَنُوں صبر کی انگڑائی سے صبر سرمایہ دل صبر مُناجات ضمیر صبر خُوشبو کی طرح پھول کے سینے میں اَسِیر صبر صحرا سے گُزرتے ہوئے بادل کا سفیر صبر سُقراط کے ہونٹوں پہ تبسم کی لکیر صبر ایوان سلاطیں میں کہاں ملتا ہے صبر کا پھول سَرِ نُوکِ سِناں کِھلتا ہے صبر غُربت میں سدا دولت ثقلین اساس صبر فرمان یقیں صبر نگہدار قیاس صبر قرآن بہ لب صبر ہے تفسیر شناس صبر نبیوں کی قبا صبر امامت کا لباس صبر صدیوں کی ریاضت کا ثمر بنتا ہے صبر بے چین دُعاؤں کا اثر بنتا ہے صبر آدمؑ کا مُقدر کبھی ہابیل مزاج صبر انساں کی مشقت کو فرشتوں کا خراج صبر اوہام کا قیدی ہے نہ پابند رواج صبر مظلوم کے ماتھے پہ اٹل فتح کا تاج ظُلم جب سینہ گیتی میں دھڑک اُٹھتا ہے صبر شبنم کے کلیجے میں بھڑک اُٹھتا ہے صبر یعقوبؑ کا چہرہ کبھی یُوسفؑ کی جَبیں صبر مریمؑ کا تقدس کبھی عیسیٰؑ کا یقیں صبر کی مَسند اعزاز سَرِ عَرشِ بَریں صبر ہے خاتم انگشت سُلیماںؑ کا نگیں صبر کی طبع حسیں جب بھی مچل جاتی ہے شُعلگی نار کی گلزار میں ڈھل جاتی ہے صبر مُنہ زور ہواؤں کی ہتھیلی پہ چراغ صبر مہتاب کے سینے میں دَمکتا ہوا داغ صبر تشکیک کے جنگل میں تیقُن کا سُراغ صبر کلیوں کا تکلم کبھی خُوشبو کا دماغ صبر ہر جُور و سِتَم خود سے بُھلا دیتا ہے صبر دُشمن کو بھی جینے کی دُعا دیتا ہے صبر پیوند زمیں ہے کبھی افلاک شکار صبر زنجیر کی شورش کبھی زنداں کا فشار صبر الہام کی منزل کبھی آیت کا وقار صبر حِکمت کا خزانہ کبھی بخشش کا حِصار ہاتھ میں جب بھی سخاوت کا عَلم لیتا ہے صبر مُجرم کو وِلایت کی سَنَد دیتا ہے جذبہ نُوحؑ کبھی عزم ابراہیمؑ ہے صبر وحدت فکر کے احساس کی تعظیم ہے صبر عظمت ارض و سماوات کی تجسیم ہے صبر چشمئہ کوثر و خُم خانہ تسنیم ہے صبر صبر کے عزم مُسلسل سے جو ٹکراتے ہیں مُطلق الحکم شہنشاہ بھی مِٹ جاتے ہیں صبر کونین کے چہرے کے لئیے زینت و زین صبر معیار نظر دولت جاں راحت عین صبر خیبر کا جری فاتح صد بدر و حُنین صبر کردار نبیؐ صبر عَلمدار حُسینؑ صحن تاریخ میں جب خاک بکھر جاتی ہے کربلا صبر کی معراج نظر آتی ہے کربلا سجدہ گُزاروں کے تَقَدُس کی زمیں کربلا حُسنِ رُخِ عرش معلیٰ کی امیں کربلا حق کابدن نقشہ فردوس بریں کربلا عدل کا دستور مؤدت کی جبیں کربلا اب بھی وَراء دَستَرسِ جبر سے ہے کربلا رُوکش خُورشید سَدا صبر سے ہے جب بڑھا سُوئے گریباں بشر ظُلم کا ہاتھ زلزلانے لگا جب قصر شریعت کا ثبات کُھول اس بھید کو اے غُربت عاشُور کی رات بول اے دین پیعمبر ؐ کی اَبد رنگ حیات تیرے جلتے ہوئے ہونٹوں پہ کوئی نام آیا جُز حُسینؑ اِبنِ علیؑ کون تیرے کام آیا جُز حُسینؑ اِبنِ علیؑ کون کہانی کس کی آج تک ہو نہ سکی بات پُرانی کس کی دجلہ وقت نے اپنائی روانی کس کی مَوج کوثر سے مِلی تشنہ دہانی کس کی لشکر ظُلم کو مٹی میں ملایا کس نے سو کے مقتل میں دو عالم کو جگایا کس نے وہ حُسینؑ اِبنِ علیؑ وقت کی تہذیب کا ناز جس نے افشاء کیا انسان کی توقیر کا راز جس کا ہر زخم ہے سرمایہ تقدیر حِجاز جس نے تِیروں کے مُصلے پہ اَدا کی ہے نماز گرم جھونکوں سے جو احوال صبا پُوچھتا ہے زِیرِ خَنجَر بھی جو خَالَق کی رضا پوچھتا ہے لخت دل فاطمہؑ زہرا کا وہ مظلوم حسینؑ بارش ظُلم میں تنہا مرا معصوم حسینؑ پیاس میں قطرہ دریا سے بھی محروم حسینؑ غُربت دین پیعمبرؑ ترا مقسوم حسینؑ جس نے شاداب چمن پَل میں اُجڑتے دیکھا جس نے چُپ رہ کے عزیزوں کو بچھڑتے دیکھا بندہ رب دو عالم وہ خُداوند اصُول ثمرہ قلب پیمبرؐ دُر شہوار بتولؑ نکہت آیہ تطہیر گُلستان رسولؐ کہکشاں جس کے لئے دامن احساس کی دُھول زندگی جس کی محبت سے لُبھاتی ہے مُجھے ہیبت مَوت پہ اب تک ہنسی آتی ہے مجھے وہ شبنم بھی ہے شُعلوں پہ شَرر بار بھی ہے دولت فکر بھی ہے عظمت کردار بھی ہے وجہ تخلیق بھی تخلیق کا معیار بھی ہے کاشف کنز خفی صاحب اسرار بھی ہے وہ جو مقتل میں بھی جذبوں کی گرہ کھولتا ہے نوک نیزہ پہ بھی قُرآن کی طرح بولتا ہے وہ حسینؑ اِبنِ علی ؑ پیکر تحسین و جمال لوح تقدیر دو عالم پہ وہ تحریر کمال جس کا ہر قطرہ خُوں دجلہ احساس و خیال جس سے دیکھا نہ گیا دین پیعمبرؐ کا زوال نقش ہے جس کا عمل وقت کے آئینے میں لشکر ظلم کا دل ڈُوب گیا سینے میں وہ حُسینؑ اِبنِ علیؑ زندہ و تابندہ حسینؑ تا اَبد اپنے اَصُولوں میں وہ پایندہ حسینؑ اپنے زخموں کی شُعاوں سے وہ رخشندہ حسینؑ حق کی تجسیم وہ نبیوں کا نمایندہ حسینؑ وہ جو میثاق کے ہر لفظ کی تجدید بھی ہے جس کی مقروض نبوت بھی ہے توحید بھی ہے عظمت ابن علیؑ دین کے دستور سے پُوچھ فَخر مُوسیٰؑ کی تجلی کا فَسُوں طُور سے پُوچھ رفعت نُوک سِناں دیدہ منصُور سے پُوچھ صبر شبیرؑ کبھی سجدہ عاشور سے پُوچھ عصر عاشور کی کِرنیں جو کبھی پُھوٹتی ہیں آنکھ کے ساتھ دل و جاں کی رگیں ٹوٹتی ہیں ایک اک کر کے بچھڑتے تھے جب انصار حُسینؑ آسرا کوئی ضعیفی کا کوئی رُوح کا چین یہ جواں لاش وہ کم سن تو اُدھر راحت عین ہچکیاں وہ کسی بچی کی کسی ماں کے وہ بین زندگی درد سے بس دیدہ تر جیسی تھی عصر عاشور قیامت کی سحر جیسی تھی سو گئے جب سبھی اصحاب سر دشت بلا اکبرؑ و قاسمؑ و عباسؑ ہوئے شہؑ پہ فِدا کھو گئے عونؑ و محمدؐ علی اصغرؑ بھی چلا آئے مقتل میں حسینؑ اِبنِ علیؑ بہر وِغا شُکر کرتے پئے سجدہ کبھی جُھک جاتے تھے سُوئے خیمہ کبھی بڑھتے کبھی رُک جاتے تھے مقتل شہؑ کی زمیں خُون سے تر ہو کے رہی زندگی اپنے ہی سینے کی سِپَر ہو کے رہی نُوکِ نِیزَہ کی بلندی تھی کہ سَر ہو کے رہی ظُلم کے اَبر چَھٹے دِیں کی سحر ہو کے رہی جَبر کا نام و نشاں بُھولا ہوا خواب ہوا صبر شبیرؑ کے سجدے سے ظفر یاب ہوا محسن نقوی شہید

No comments:

Post a Comment

Pakistan plans to ease visa policy for 55 countries to revive tourism

Pakistan plans to ease visa policy for 55 countries to revive tourism In an attempt to revive tourism, Pakistan is planning to ease...